بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

متعین نفع کی شرط پربیسی کی رقم کاروبار میں لگانا

سوال

ایک شخص بی، سی ڈالتاہے، اور اپنی باری میں جو بڑی رقم اسے یک مشت ملتی ہے، وہ کل رقم کو تجارت کے لیے ایک معینہ مدت تک کے لیے اس شرط پر دیتاہے کہ وہ شخص ہر ماہ بی سی میں اس کے حصے کی جو رقم بنتی ہے (یعنی فی ممبر بی سی میں جو مقدار جمع کی جائے گی، مثلاً: دس ہزار ماہانہ) وہ چکائے گا، تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

کاروبار کی یہ صورت ناجائز ہے اور اسے ختم کرنا واجب ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200119
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں