بچے کی پیدائش کے دس پندرہ سال بعد تک آنے والے دودھ سے حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کا حکم
سوال
کیا فرماتے مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں:
اگر کسی عورت کا بچے کی پیدائش کے دس پندرہ سال تک سینے میں دودھ آتاہو، وہ کسی بچے کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلائے، اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی کہ نہیں؟
جواب
مذکورہ عورت جس بچے کو بھی مدتِ رضاعت میں دودھ پلائے گی تو اس بچے کے ساتھ حرمتِ رضاعت ثابت ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144010200100
تاریخ15-06-2019

