بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قبر پکی کرنا جائز ہے؟

سوال

قبر پکی کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اور اگر جائز ہے تو اس کی کوئی حد ہے؟

جواب

قبر  (یعنی جتنی جگہ میں میت ہے) پکی کرنے کے حوالے سے احادیث میں ممانعت آئی ہے، جس کی وجہ سے قبر  پکی کرنا جائز نہیں، تاہم قبر کے اطراف پر منڈیر بنانے اور اِرد گرد کا فرش پکا کرنے کی گنجائش ہے۔

سنن الترمذي میں ہے:

"١٠٥٢ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ القُبُورُ، وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا، وَأَنْ تُوطَأَ». [ص: ٣٦٠] هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ". (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَجْصِيصِ القُبُورِ، وَالكِتَابَةِ عَلَيْهَا)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"قوله: "ولا يجصص" به قالت الثلاثة لقول جابر: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبور، وأن يكتب عليها، وأن يبنى عليها. رواه مسلم وأبو د اود والترمذي وصححه". ( كتاب الصلاة، باب احكام الجنائز، فصل في حملها و دفنها، ص: ٦١١) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200093
تاریخ14-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں