بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پچھلے سالوں کی زکوۃ

سوال

اگر  پچھلے  دو، تین سالوں  کی زکوۃ ادا نہیں کی تو کیا اس کی  قضا کرنی ہوگی  یا اس سال جو رقم بنے گی صرف اس کی زکوۃ دینی ہوگی؟ اگر پچھلے سال کی دینی ہوگی تو اس کا طریقہ بتا دیں!

جواب

اگر  گزشتہ  سالوں میں بھی آپ صاحبِ نصاب تھے اور  زکوۃ ادا نہیں کی تو وہ زکوۃ معاف نہیں ہوگی،  بلکہ آپ کے ذمہ اس کی ادائیگی ہے۔

ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں ہر سال کتنی رقم تھی اور نصاب کی مالیت کی مقدار کیا تھی، اگر یہ آپ کو معلوم ہے تو اس حساب سے ہر سال کی رقم سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کردیں۔

اور اگر گزشتہ سالوں کی رقم یا نصاب کی مالیت کی مقدار معلوم نہیں تو  موجودہ مالیت میں سے پہلے سال کی زکاۃ ادا  کریں، پھر جو باقی بچے اس میں سے اگلے  سال کی پھر اسی طرح آخر تک،  پھر اگر مال نصاب سے کم رہ جائے تو زکاۃ  واجب نہیں ہوگی۔

أصول السرخسي (1 / 52):

"و الأخذ بالاحتياط في باب العبادات أصل."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200060
تاریخ13-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں