بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بچوں کو یہ کہنے ’’تمہاری ماں اگر اپنے بھائی سے بات کرے تو طلاق‘‘ کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص اپنے بچوں سے کہے کہ تمہاری ماں اگر اپنی بھائی سے بات کرے تو طلاق۔  کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟  براہِ  کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب دیجیے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص کا اپنے بچوں کو یہ کہنے ’’تمہاری ماں اگر اپنی بھائی سے بات کرے تو طلاق‘‘ سے فوراً طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اس کہنے کے بعد  اس کی بیوی نے اپنے بھائی سے بات کی تو اس پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی،  عدت کے اندر رجوع کی اجازت ہوگی، اور عدت گزرنے کے بعد شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، بہر دوصورت آئندہ شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200047
تاریخ12-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں