بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذہنی توازن خراب ہونے کی وجہ سے چھوٹنے والی نمازوں اور روزوں کے فدیہ یا کفارے کا حکم

سوال

2013 میں میرے دادا جی کا ذہنی  توازن خراب ہونے کے باعث ان کے روزے اور نماز قضا ہوتے رہے،  اسی حالت میں کل ان کا انتقال ہو گیا،  کیا ان کا کفارہ یا فدیہ ادا کرنا ہو گا؟

جواب

اگر ذہنی توازن خراب ہونے سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ  نماز روزے  کی تمیز  بالکل ہی کھوبیٹھے تھے تو پھر وہ اس حالت میں نماز روزے کے مکلف ہی نہیں رہے تھے، اس لیے اس حالت میں جتنی نمازیں اور روزے چھوٹے ہوں ان کا کوئی فدیہ یا کفارہ ان کے ذمہ لازم نہیں ہوا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200045
تاریخ12-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں