ذہنی توازن خراب ہونے کی وجہ سے چھوٹنے والی نمازوں اور روزوں کے فدیہ یا کفارے کا حکم
سوال
2013 میں میرے دادا جی کا ذہنی توازن خراب ہونے کے باعث ان کے روزے اور نماز قضا ہوتے رہے، اسی حالت میں کل ان کا انتقال ہو گیا، کیا ان کا کفارہ یا فدیہ ادا کرنا ہو گا؟
جواب
اگر ذہنی توازن خراب ہونے سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ نماز روزے کی تمیز بالکل ہی کھوبیٹھے تھے تو پھر وہ اس حالت میں نماز روزے کے مکلف ہی نہیں رہے تھے، اس لیے اس حالت میں جتنی نمازیں اور روزے چھوٹے ہوں ان کا کوئی فدیہ یا کفارہ ان کے ذمہ لازم نہیں ہوا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

