بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک کروڑ کی تقسیم بیوہ، چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان

سوال

مبلغ ایک کروڑ کی رقم مندرجہ ذیل پس ماندگان میں تقسیم فرمائیں:

ایک بیوہ، دو بیٹیاں، چار بیٹے زندہ۔

مرحوم کی ایک بیٹی ان کی زندگی میں 8سال پہلے انتقال کرگئی تھی، اس کی اولاد بھی نانا کی وراثت میں حصہ دار ہو گی ؟

جواب

ایک کروڑ روپے ایک بیوہ، چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ایک کروڑ روپے میں سے بارہ لاکھ پچاس ہزار (۱۲۵۰۰۰۰ ) روپے مرحوم کی بیوہ کو، سترہ لاکھ پچاس ہزار (۱۷۵۰۰۰۰ ) روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور آٹھ لاکھ پچھتر ہزار (۸۷۵۰۰۰ ) روپے مرحوم کی ہر ایک زندہ بیٹی کو ملیں گے۔

مرحوم کی جو بیٹی  مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھی اس بیٹی یا اس کی اولاد کا مرحوم کے ترکہ میں شرعاً حصہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202079
تاریخ10-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں