بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بڑے پیمانے پر چھالیہ کی خرید و فروخت اور تجارت کرنے کا حکم

سوال

بڑے  پیمانے پر چھالیہ کی خریدوفروخت (مطلب بڑے پیمانے پر خرید کر چھوٹے بڑے ڈیلر کو سپلائی کرنا) شریعت کے مطابق کیا یہ کاروبار حلال ہے یا حرام؟

جواب

 چھالیہ  کی خرید و فروخت اور تجارت جائز ہے،  چاہے چھوٹے پیمانے پر ہو یا بڑے پیمانے پر۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202058
تاریخ09-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں