بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک قالین پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا

سوال

جس قا لین یا کارپٹ کو بچوں وغیرہ کا پیشاب لگا ہو تو اس پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر پیشاب خشک ہوگیا ہو تو اس قالین پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ تاہم اگر وہ اتنا تر ہوکہ مصلے کے اوپر کی جانب نجاست کا اثر آجائے تو مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 

"وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقاً يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لايجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظاً بحيث لايكون كذلك جازت". (فتاوی شامی، ۱/۶۲۶، سعید)

"ولو كانت النجاسة رطبةً فألقى عليها ثوباً وصلى إن كان ثوباً يمكن أن يجعل من عرضه ثوباً كالنهالي يجوز عند محمد وإن كان لايمكن لايجوز إن كانت يابسةً جازت إذا كان يصلح ساتراً. كذا في الخلاصة". (الفتاوی الهندیة، ۱/۶۲)

"وقال في شرح المنية: وهو الصحيح، لأن اتصال العضو بالنجاسة بمنزلة حملها وإن كان وضع ذلك العضو ليس بفرض". (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح - فتاوی شامی، ۱/۴۰۳، سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202057
تاریخ09-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں