بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کے بالوں کو پھینکنا

سوال

آج کل شہروں میں  اٹیچڈ باتھ ہیں اور ایک ہی نالی ہوتی ہے ، کیا ادب یہ ہے کہ داڑھی کے بالوں کو اس میں ڈال دیا جائے؟  تقوی کے قریب کیا ہے؟

جواب

کٹے ہوئے بالوں کو دفن کردینا چاہیے، اگر دفن نہ کرسکیں تو کسی محفوظ جگہ ڈال دیا جائے،  مگر نجس (گندی) جگہ نہ ڈالنا چاہیے، یہ انسانی اعضاء کی بے اکرامی کے ساتھ  بیماری کا باعث بھی ہوسکتاہے، فقہاء نے اسے مکروہ لکھاہے: 

"فإذا قلم أظفاره أو جزّ شعره ینبغي أن یدفن ذلک الظفر والشعر المجزور، فإن رمی به فلا بأس به. وإن ألقاه في الکنیف أوفي المغتسل یکره ذلک؛ لأن ذلک یورث داءً". (عالمگیري: 5/358)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202044
تاریخ09-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں