بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر چندہ سے مٹھائی یا کھانے کا انتظام کرنے کا حکم

سوال

رمضان المبارک میں تراویح  میں ختم القرآن کے موقع پر صاحبِ استطاعت لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے کوئی مٹھائی یا روٹی وغیرہ کا انتظام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ چاہے مسجد کے اندر ہو یا باہر ہو اور اگر مسجد کے اندر ہونے کی صورت میں مسجد کا لحاظ بھی کیا جائے کیا یہ جائز ہے؟

جواب

تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر  مٹھائی یا کھانا تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے، اگر ختم  پر مٹھائی تقسیم کرنے یا کھانا کھلانے  کے لیے لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہو اور بچوں کا  رش اور شوروغل ہوتا ہو، مسجد کا فرش خراب ہوتا ہو یا اسے لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو تو اس کا ترک کردینا ضروری ہے۔ اور اگر  یہ مفاسد نہ پائے جائیں، بلکہ کوئی خوشی وطیبِ خاطر سے تقسیم کردے یا امام یا سامع کے لیے لے آئے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، ایسی صورت میں  بہتر یہ ہے کہ خشک چیز تقسیم کی جائے، تاکہ مسجد کا فرش وغیرہ خراب نہ ہو اور مسجد کے اندر تقسیم کرنے کے بجائے دروازے پر تقسیم کردیا جائے۔(مستفاد از فتاوی رحیمیہ 6/243) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202029
تاریخ09-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں