بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ میں یاد آیا کہ رکوع چھوٹ گیا

سوال

 اگر نماز میں رکوع چھوٹ جائے اور سجدہ میں چلا جائے پھر یاد آئے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر نماز میں رکوع چھوٹ جائے اور اسی رکعت کے سجدہ میں یاد آجائے تو یاد آتے ہی کھڑے ہوکر فوت شدہ رکوع ادا کرلے اور دوبارہ سجدہ کرلے؛ کیوں کہ رکوع سے پہلے کیا گیا سجدہ معتبر نہیں ہے۔ تاہم منفرد ہونے (تنہا نماز پڑھنے) کی صورت میں نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلے۔

"وبقي من الفروض تمييز المفروض، وترتيب القيام على الركوع،والركوع على السجود". (فتاوی شامی، ۱/۴۴۹، سعید)

"(قوله: وترتيب القيام على الركوع إلخ) أي تقديمه عليه، حتى لو ركع ثم قام لم يعتبر ذلك الركوع، فإن ركع ثانياً صحت صلاته؛ لوجود الترتيب المفروض، ولزمه سجود السهو؛ لتقديمه الركوع المفروض، وكذا تقديم الركوع على السجود؛ حتى لو سجد ثم ركع، فإن سجد ثانياً صحت لما قلنا". (فتاوی شامی، ۱/۴۴۹، سعید)
"(ورعاية الترتيب) بين القراءة والركوع و (فيما يتكرر) أما فيما لايتكرر ففرض كما مر".(فتاوی شامی، ۱/۴۶۰، سعید)

"بخلاف الترتيب بين الركوع والسجود مثلاً فإنه فرض، حتى لو سجد قبل الركوع لم يصح سجود هذه الركعة، لأن أصل السجود يشترط ترتبه على الركوع في كل ركعة كترتب الركوع على القيام". (فتاوی شامی، ۱/۴۶۱، سعید)

"قلت: أجاب في البحر بأن قولهم هنا: إن الترتيب شرط، معناه أن الركن الذي قدمه يلغو ويلزمه إعادته مرتباً، حتى إذا سجد قبل الركوع لايعتد بهذا السجود بالإجماع كما صرح به في النهاية؛ فيشترط إعادته". (فتاوی شامی، ۱/۴۶۱، سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008202014
تاریخ08-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں