بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف پڑھنا اور پھر اجتماعی دعا کرنا احادیث سے ثابت ہے؟

سوال

کیا نمازِ تراویح کے بعد ایک ساتھ جمع ہوکر درود شریف پڑھنا اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

نمازِ  تراویح کے بعد  اجتماعی  طور پر درود شریف پڑھنا اور اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرآن و حدیث و عمل صحابہ و اسلاف سے ثابت نہیں، مذکورہ طریقہ پر درود شریف پڑھنے کو مسنون سمجھنا بے اصل ہے، اور سنت کی طرح اس کا معمول بنانا بھی غلط ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201975
تاریخ07-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں