بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو’’جاؤ گھر یا تو میں تیرے والد کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر‘‘ کہنے کا حکم

سوال

میری  بیوی سے کبھی کبھی لڑائی ہوتی ہے اور پھر جب میں غصہ میں ہوتا ہوں تو بیوی کو ڈرانے یا دھمکانے کے لیے بیوی کو کہتا ہوں: "جاؤ گھر یا تو میں تیرے والد  کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر، مجھ سے تنگ ہے، روز مجھے بھی بے زار  کیا".

میری  نیت میں طلاق کا ارادہ نہیں، بلکہ بیوی کو ڈرانے کے لیے ایسا کہا. اس کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

طلاق کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو ڈرانے کے لیے مذکورہ جملہ ’’جاؤ  گھر یا تو میں تیرے والد کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر‘‘ بولنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201930
تاریخ05-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں