بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپس کی رضامندی سے غیر منصفانہ تقسیمِ میراث

سوال

ہمارے آبا واجداد جو کہ سات (7) بھائی تھے، جن کی وراثت میں تقریباً 144 کنال زرعی زمین تھی جو کہ مختلف جگہوں پر مختلف ٹکڑوں پر مشتمل تھی کوئی ٹکڑا ذرا زیادہ زرخیز تھا تو کوئی کم۔ انہوں آپس میں اس کل زمین کی تقسیم کچھ اس طرح کی کہ سات بھائیوں میں ہر ایک کو حصہ برابر کے بجائے کچھ اس طرح زمین ملا 28کنال, 25کنال, 25کنال, 18کنال, 16 کنال، 16کنال, 16 کنال۔ یعنی کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے تقسیم سے ہمارے آبا واجداد سود کھانے اور کھلانے کے مرتکب تو نہیں ہوئے؟, اور اگر اس معاملے سود موجود ہے تو ہم وارثین کو اب حکم ہے؟ 

جواب

اگر تمام بالغ ورثاء آپس کی رضامندی سے کچھ کم اور کچھ زائد ترکہ تقسیم کرلیں تو یہ جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور نہ ہی یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 19):

"وقسمة رضا: وهي التي يفعلها الشركاء بالتراضي."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201920
تاریخ05-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں