بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستحب وقت پر عقیقہ نہیں کیا

سوال

میں نے اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کا عقیقہ ابھی تک نہیں کیا،  جس کی وجہ یہ ہے کہ  میرے مالی حالات کچھ بہتر نہیں تھے ،میرے بچوں کی عمریں بالترتیب یہ ہیں ۔ 17.14.10.5.2۔ابھی میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں ، اس میں میری راہ نمائی فرمائیں!

جواب

عقیقہ کا مستحب وقت پیدائش کا ساتواں یا چودھواں یا اکیسواں دن ہے،اگر کسی عذر کی وجہ سے ان دنوں میں عقیقہ نہیں کیا تو موت سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عقیقہ کرنا جائز ہے، عقیقہ ہوجائے گا،  لیکن مستحب وقت پر عقیقہ کرنے کا ثواب نہیں ملے گا۔فيض الباري شرح البخاري - (7 / 81):
"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت".

تنقیح الفتاوی الحامدیة (2/ 233) میں ہے:

"ويسن أن يعق عن نفسه من بلغ ولم يعق عنه". (کتاب الذبائح، مکتبة حامدیة)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201883
تاریخ03-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں