بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا غیر مسلم کی دعوت میں شریک ہو سکتے ہیں؟ / غیر مسلم کو افطاری کرانے پر ثواب ہوگا؟

سوال

1- غیر مسلم یا مسلم جو روزہ افطار کراتا ہے اور خودروزہ نہیں رکھتا ہے تو کیا اس کی  افطاری کی  دعوت قبول کرسکتے ہیں؟ 

2-  اس کو روزہ افطار کرانے کا ثواب ملے گا؟

جواب

1- غیر مسلم (یا وہ مسلمان جو خود روزہ نہیں رکھتا) کی جانب سے کی گئی افطار کی دعوت میں شرکت کرنے کی گنجائش ہے، اگر کھانے پینے کی اشیاء شرعاً حلال ہوں۔

2-  اعمال پر اخروی اجر وثواب کے لیے ایمان شرطِ اولین ہے، ایمان کے بغیر اعمالِ صالحہ مقبول نہیں ہوتے، لہٰذا مسلمان گناہ گار کو تو بسببِ ایمان افطار کرانے پر اجر وثواب حاصل ہوگا، البتہ غیر مسلم کو افطاری کرانے  پر اخروی اجر نہیں ملے گا،  تاہم اللہ رب العزت  اس عمل کا بدلہ  دنیا  میں ہی عطا فرما دیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008201880
تاریخ03-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں