بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشانی کے بال کاٹنا اور داڑھی کے سائڈ کے بالوں کی سیٹنگ

سوال

1- کیا مرد  کے لیے پیشانی کے بال ہٹانا جائز ہے؟

2- اگر سائڈ  میں داڑھی ہو  تو اس کی سیٹنگ کرا سکتے ہیں؟ اور کتنی کرا سکتے  ہیں؟

جواب

1- مرد  کے لیے  پیشانی پر زائد بال کاٹنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 373):

"وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث". 

2- داڑھی کی سائڈ سے ایک مٹھی سے زائد بالوں کی سیٹنگ کروا سکتے  ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 407):

"و لا بأس بنتف الشيب، وأخذ أطراف اللحية والسنة فيها القبضة."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 418):

"لا بأس بأخذ أطراف اللحية إذا طالت."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201866
تاریخ03-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں