بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سعودیہ میں رمضان شروع کرنے والے کا رمضان میں پاکستان آکر اکتیسواں روزہ رکھنے کا حکم

سوال

اگر کسی نے رمضان المبارک کے شروع کے روزے مکے میں رکھے اور کچھ دن بعد پاکستان آگیا اور باقی روزے پاکستان میں رکھے تو اس طرح اس کے روزے اکتیس ہوگئے یہ اکتیسواں روزہ نفل ہوگا یا فرض؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے اکتیسواں روزہ رکھنا فرض نہیں ہے، اس لیے کہ قمری مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوسکتا، البتہ دیگر روزہ داروں  اور رمضان کے احترام میں یہ شخص بھی روزہ رکھ لے۔ (فتاوی محمودیہ 10/37۔روزہ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 257، فتاوی بینات 3/79)

واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں بعض علماءِ کرام کے نزدیک ایسے شخص کے حق میں اکتیسواں روزہ رکھنا شہودِ شہر کی وجہ سے فرض ہے، لہذا اختلاف سے بچنے کے لیے احتیاطاً روزہ رکھ لینا ہی بہترہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201847
تاریخ02-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں