بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم مدرسہ کی تعمیرات میں لگانے کا حکم

سوال

میرا بھائی خود مستحق زکاۃ  نہیں ہے اور وہ مدرسے کا مالک ہے اور اس کے مدرسے میں تعمیراتی کام جاری ہے، جس  کے لیے اسے رقم کی ضرورت ہے تو کیا میں اپنی زکاۃ  اسے مدرسے کی تعمیر  کے لیے  دے سکتا ہوں؟  اور اگر نہیں دے سکتا ہوں تو کوئی طریقہ ہے جس سے میں اپنی زکاۃ  اسے دے سکوں؟

جواب

زکاۃ  کی رقم میں کسی غریب مسلمان کو مالک بنانا شرط ہے؛  اس لیے زکاۃ  کی رقم مدرسہ کی تعمیرات میں لگانا جائز نہیں ہے۔ اگر آپ کے بھائی کے مدرسے میں زکاۃ کے مستحق طلبہ موجود ہیں تو آپ زکاۃ کی رقم اس مدرسے میں جمع کروا سکتے ہیں، لیکن ضروری ہوگا کہ زکاۃ کی رقم انہی مستحق طلبہ پر صرف کی جائے، تعمیر میں استعمال نہ کی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201832
تاریخ01-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں