بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو منٹ پہلے روزہ افطار کرنا

سوال

اگر کوئی تنظیم دو منٹ سورج غروب ہونے سےقبل روزہ افطار کرائے تو وہ روزہ ہو گا یا نہیں؟  اگر نہیں تو اس کا مجرم کون ہے؟

جواب

واضح رہے کہ روزہ کے افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے، اگر کوئی شخص یا تنظیم غروبِ آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرتی ہے خواہ وہ ایک منٹ ہی پہلے کرے تو اس کا روزہ درست نہیں ہو گا اور اس کا وبال ہر اس شخص پر آئے گا جو اپنے اختیار سے  خود وقت سے پہلے روزہ افطار کر رہا ہے، سحر و افطار میں درست وقت سے آگاہی ہر ایک کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ہر ذی شعور شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی گھڑی معیاری وقت کے مطابق رکھے اور مستند نقشے کا انتظام کرے، اور اسی کے مطابق روزہ رکھے اور افطار کرے،  کیوں کہ روزہ وقت سے پہلے کھولنے میں روزہ دار فاعلِ مختار ہے اس لیے وہ خود ذمہ دار ہوگا، تاہم غلطی کی صورت میں امید ہے کہ اللہ پاک مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔

باقی اگر دوسرا شخص یا تنظیم جانتے بوجھتے وقت سے پہلے لوگوں کو افطار کرادے تو انہیں اس کا گناہ ہوگا، لیکن اگر وہ افطار کی اشیاء وقت سے پہلے تیار کردیں اور سب کو روزہ کھولنے کا نہ کہیں اور کوئی خود سے روزہ کھول دے  تو ایسی صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201827
تاریخ01-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں