بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ اعتکاف مسجد میں استری و دیگر کام کرنے کا حکم

سوال

دورانِ اعتکاف مسجد میں کپڑے استری کرنے اور اسی طرح اور دیگر کام کرنا مناسب ہے یا نہیں؟

جواب

ضرورت کے وقت معتکف مسجد کے اندر ایسے تمام کام کرسکتا ہے جن سے مسجد کے آداب کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو ،  کپڑے استری کروانے کا اگر باہر کوئی انتظام ہوجائے تو بہتر ، ورنہ اگر مسجد سے باہر استری کروانے  کی کوئی صورت  نہ ہو  اور کپڑے بغیر استری پہننے میں برے محسوس ہوں تو ضرورت کی بنا پر استری کرنا جائز ہوگا،  البتہ اس صورت میں استعمال شدہ  بجلی  کی مد میں کچھ رقم مسجد کے اخراجات کی میں شامل کرلینی چاہیے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 335):
"وَلَا بَأْسَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ يَبِيعَ وَيَشْتَرِيَ وَيَتَزَوَّجَ وَيُرَاجِعَ وَيَلْبَسَ وَيَتَطَيَّبَ وَيَدَّهِنَ وَيَأْكُلَ وَيَشْرَبَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ وَيَتَحَدَّثَ مَا بَدَا لَهُ بَعْدَ أَنْ لَا يَكُونَ صَائِمًا وَيَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201824
تاریخ01-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں