بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں بوس وکنار میں لعاب منہ میں چلا جائے 

سوال

روزے  کی حالت میں بوس وکنار میں لعاب منہ میں چلا جائے  تو کیا حکم ہے؟

جواب

روزہ رکھ کر اس طرح بوسہ لینا مکروہ ہے، اگر انزال ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔  اور اگر میاں بیوی میں سے کسی نے دوسرے کا لعاب نگل لیا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا (اگرچہ انزال نہ ہو)  اور اس صورت میں قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔ 

"أو وطیٴ امرأة میتةً ․․․․ أو قبل ولو قبلة فاحشة ․․․․ فأنزل، قید للکل ، حتی لو لم ینزل کما یفطر کما مرّ". (درمختار مع الشامية: ۳/۳۷۸، ط: زکریا)

"ولو ابتلع بزاق غیره فسد صومه بغیرکفارة إلا إذا کان بزاق صدیقه فحینئذٍ تلزمه الکفارة". (الهندیة، ۱/۲۶۵) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201812
تاریخ01-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں