بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہم بستری سے انکار پر نکاح کے فساد اور طلاق کے جواز کا حکم

سوال

1:میں نے بیوی کو ہم بستری کے لیے کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگی: میں یہ گھٹیا کام نہیں کر سکتی۔ کیا میرا نکاح فاسد ہوگیا؟

2: میری بیوی اکثر ہم بستری سے انکار کر دیتی ہے؟ کیا شرعی طور پر میں اسے طلاق دے سکتا ہوں؟

جواب

1: صورتِ مسئولہ میں نکاح فاسد نہیں ہوا۔

2 : اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے، پھر بھی نہ مانے تو گناہ گار ہے۔

جہاں تک طلاق دینے کی اجازت کے فتوے کی  بات ہے تو یہ بیوی کے انکار اور نفرت کی وجہ جاننے پر موقوف ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 576):
"(قوله: لو مانعته من الوطء إلخ) قيده في السراج بمنزل الزوج وبقدرته على وطئها كرهاً. وقال بعضهم: لا نفقة لها؛ لأنها ناشزة. اهـ والثاني وجيه في حق من يستحي، وهذا يشير إلى أن هذا المنع في منزلها نشوز بالاتفاق، سائحاني".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201804
تاریخ01-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں