بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کے نصاب میں گھر کی ضرورت سے زائد اشیاء کو شمار کرنے کا حکم

سوال

کیا صدقہ فطر کے نصاب میں گھر کی ضرورت سے زائد اشیاء کو بھی شامل کیا جائے گا؟

جواب

صدقہ فطر کے نصاب میں گھر کی ضرورت سے زائد اشیاء (جو  استعمال میں نہ آتی ہوں) کی مالیت کو بھی شمار کیا جائے گا۔ جو چیز سال میں ایک مرتبہ بھی استعمال ہوتی ہو، اس کی مالیت کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 360):

"(ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر (وبه) أي بهذا النصاب (تحرم الصدقة) كما مر، وتجب الأضحية ونفقة المحارم على الراجح  (و) إنما لم يشترط النمو؛ لأن (وجوبها بقدرة ممكنة) هي ما يجب بمجرد التمكن من الفعل فلا يشترط بقاؤها لبقاء الوجوب؛ لأنها شرط محض". 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201797
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں