بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قیام اللیل اعتکاف کا لازمی جز ہے؟

سوال

قیام اللیل کی جو صورت ہے جامعہ کے فتوے میں موجود ہے تو یہ کیا اس صورت میں بھی جائز ہوگی جب قیام اللیل کو اعتکاف کاجز لازم سمجھا جائے یا بہت زیادہ ضروری سمجھا جائے؟

جواب

اعتکاف کا اصل مقصد دنیاوی مشاغل سے دور ہوکر یک سوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا، اور  اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنا ہے، جس میں فرائض، سنن و نوافل کی ادائیگی بھی داخل ہے۔  تاہم کسی بھی عمل کو اعتکاف کا لازمی  جز سمجھنا  درست نہیں، نیز قیام اللیل (تہجد ) کو اعتکاف کا لازمی جز سمجھنا بھی درست نہیں۔ 

منتظمینِ مسجد اور امام صاحب کو چاہیے کہ جب تمام معتکفین اور شرکاء خوش دلی سے تہجد کے وقت تراویح کی ادائیگی پر راضی نہ ہوں تو عشاء کے متصل بعد دستور کے مطابق تراویح کی مکمل نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں۔ اور اس وقت کسی شرعی عذر کے بغیر  تراویح کی نماز چھوڑنا گناہ ہے، تراویح کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے، اعتکاف میں اس کی تاکید مزید بڑھ جائے گی، معتکف کے لیے مسجد کے اندر رہتے ہوئے تراویح کی نماز ترک کرنا بہت ہی محرومی کی بات ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201794
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں