بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال کے درمیان میں آنے والے مال کی زکاۃ کی ادائیگی کا طریقہ

سوال

دکان میں موجودہ سامان میں سے کچھ پر سال گزرا ہے اور کچھ مہنگے سامان پر سال نہیں گزرا ہے تو زکاۃ کیسے ادا ہوگی؟

جواب

اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب ہو اور درمیانِ سال میں اس کے پاس مزید قابلِ زکاۃ مال آ جائے تو سال کے درمیان میں آئے ہوئے مال کے لیے الگ سال کا مکمل ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ  جس مال پر سال گزر کر زکاۃ کا سال مکمل ہوچکا ہے، اسی کے ساتھ  سال کے درمیان میں آنے والے مال کی زکاۃ  کا بھی  حساب کیا جائے گا۔

اور اگر پہلے سے نصاب مکمل نہیں تھا، بلکہ بعد میں آنے والے مال سے ہی نصاب مکمل ہوا ہو تو جب  نصاب  مکمل ہوا  اس وقت سے زکاۃ  کا سال شروع ہو گا اور اس کے حساب سے زکاۃ  کی ادائیگی کی جائے گی۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201793
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں