کیا تراویح کے اختتام پر بطورِ تحفہ حافظ صاحب کو کپڑے وغیرہ دے سکتے ہیں؟
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے کرام مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں قرآء اور حفاظ حضرات تراویح میں قرآن مجید سناتے ہیں اور وقت کوئی اجرت یا وظیفہ طے نہیں کیا جاتا، نہ ہی حافظ صاحب کوئی ڈیمانڈ کرتے ہیں، اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے یا عید کے لیے حافظ صاحب کے کپڑے وغیرہ بنوائے تو شرعاً جائز ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں تراویح پڑھانے کی اگر کوئی اجرت طے نہ کی گئی ہو، اور حافظ صاحب کی طرف سے مطالبہ بھی نہ ہو اور ختمِ قرآن کے موقع پر حافظ صاحب کو اگر کوئی اپنی خوشی سے ہدیہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

