بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اعمال قرآنی نامی کتاب میں مذکور وظائف پڑھنا بدعت ہے؟

سوال

میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب ’’اعمال قرآنی‘‘  سے ایک وظیفہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن کہا جاتا ہے کہ قرآن کی کوئی خاص آیت جو کہ نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تعلیم نہ کی ہو کسی خاص مقصد کے لیے پڑھنا بدعت ہے۔ اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ اعمالِ قرآنی یا دیگر وظائف  کی مستند کتابوں میں جو وظائف درج ہیں ان کا مدار بزرگوں کے تجربات پر ہے، اور تجربات سے ان کا مفید ہونا ثابت ہے، ان وظائف کو پڑھنا  شرعاً درست ہے، خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرآنی آیات سے دم کرنا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے منع نہ کرنا جواز کی دلیل ہے، لہذا اعمالِ قرآنی میں مذکور وظائف کا پڑھنا جائز ہے، نیز ان وظائف کو بدعت قرار دینا درست نہیں ہے ۔ البتہ یہ خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ کسی جائز شرعی مقصد کے لیے یہ وظائف پڑھے جائیں۔ غلط مقصد کے حصول کے لیے ان کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

مجرباتِ اکابر کی حیثیت

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201775
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں