بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا معتکف جمعہ ادا کرنے دوسری مسجد جا سکتا ہے؟

سوال

کیا معتکف کا جمعہ پڑھنے کے لیے دوسری مسجد میں جاناجائزہے؟ واضح رہے کہ جس میں وہ معتکف  ہے اس مسجد میں جمعہ نہیں ہوتا!

جواب

اگر اعتکاف کسی ایسی مسجد میں کیا ہو جہاں جمعہ قائم نہیں کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں معتکف ادائیگی جمعہ کے لیے  قریب ترین مسجد جا سکتا ہے، البتہ نمازِ جمعہ سے فارغ ہوتے ہی اپنے اعتکاف والی مسجد واپس آنا ضروری ہوگا۔ مراقي الفلاح میں ہے:

"ولا يخرج منه" أي من معتكفه فيشمل المرأة المعتكفة بمسجد بيتها "إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود، وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام؛ لأنه عليه السلام كان لايخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان "أو" حاجة "ضرورية كانهدام المسجد". (حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، باب الاعتكاف، ١/ ٧٠٢)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وَأَمَّا مُفْسِدَاتُهُ) فَمِنْهَا الْخُرُوجُ مِنْ الْمَسْجِدِ، فَلَايَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا إلَّا بِعُذْرٍ، وَإِنْ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ سَاعَةً فَسَدَ اعْتِكَافُهُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَذَا فِي الْمُحِيطِ". ( کتاب الصوم، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ، ١/ ٢١٢) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201768
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں