بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیٹرول کے کاروبار میں لگی رقم پر زکاۃ

سوال

میں نے کچھ رقم ایک پٹرول پمپ پر دی ہوئی ہے، جہاں سے مجھے ماہانہ پرافٹ ملتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ زکاۃ اس پرافٹ پر دوں گا یا جو کل رقم اس پٹرول پمپ پر دی ہوئی ہے اس پر دوں گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی کل انویسٹمنٹ سے جتنا پیٹرول آیا ہو اس کا حساب کرلیا جائے اور  جس دن آپ کی زکاۃ  کا سال مکمل ہو، اس دن پیٹرول کی جو قیمتِ فروخت ہو، اس کے حساب سے آپ کی ملکیت کے کل  پیٹرول کا حساب لگا کر کل قیمتِ فروخت کا ڈھائی فی صد بطورِ زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا، نیز ماہانہ جو نفع آتا ہے اگر وہ استعمال ہوجاتا ہے، کچھ بھی محفوظ نہیں رہتا تو اس استعمال شدہ منافع پر زکاۃ واجب نہیں، البتہ اگر نفع محفوظ رہتا ہو، تو اسے بھی کل مالِ زکاۃ میں شامل کرکے کل کا ڈھائی فی صد بطورِ زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201766
تاریخ31-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں