بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں سامع کا ”اولئک اصحاب الجنۃ“ کی جگہ ”اولئک اصحاب النار“ سے لقمہ دینا / تراویح کی قضا

سوال

ہمارے  علاقے  کی ایک مسجد میں تراویح کی نماز میں حافظ صاحب کو  {اُولٰئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ}  کی جگہ "أصحاب النار" سے ایک حافظ نے لقمہ دیا،   امامت کرنے والے حافظ نے بھی لقمہ لے  کر پڑھا،  دودن کے بعد جھگڑا ہورہاہے نماز لوٹانی  ہے یا نہیں؟  میرا سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرناہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مقتدی نے {اُولٰئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ}   کی جگہ ”أولئک أصحاب النار“ سے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ لے لیا اور دوبارہ اسی رکعت میں اس کو صحیح نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی، اگر اسی رکعت میں اس کو دوبارہ صحیح کرلیا تھا تو نماز درست ہوگئی۔

نماز فاسد ہونے کی صورت میں ان دو رکعتوں کا وقت کے اندر اعادہ واجب تھا، اب وقت نکل جانے کے بعد اعادہ نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ تراویح کی قضا نہیں ہوتی، لہذا اس پر توبہ واستغفار کرلیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 44):
"(ويستحب تأخيرها إلى ثلث الليل) أو نصفه، ولاتكره بعده في الأصح (ولاتقضى إذا فاتت أصلاً)ولا وحده في الأصح (فإن قضاها كانت نفلاً مستحباً وليس بتراوح) كسنة مغرب وعشاء".
الفتاوى الهندية (1/ 117):
"وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره، ولو تذكروا تسليمة بعد أن صلوا الوتر قال محمد بن الفضل: لايصلونها بجماعة، وقال الصدر الشهيد: يجوز أن يصلوها بجماعة، كذا في السراج الوهاج". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201745
تاریخ30-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں