بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی ادائیگی کا حکم

سوال

میرے نکاح کے وقت مہر کی رقم غیرمعجل مکمل پانچ لاکھ رکھی گئی، میری استطاعت گنجائش اتنی نہیں کہ میں یہ ساری رقم ادا کر سکوں جب کہ ابھی تک میں نے کسی قسم کا مہر ادا نہیں کیا، شادی کے دو سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ میر ےلیے شرعی کیا حکم ہے ؟

جواب

مہر  کی رقم چوں کہ غیر معجل ہے؛ اس لیے اب  تک ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے آپ گناہ گار نہیں ہیں۔  البتہ مہر مقرر کرنے کے حوالے سے شریعت کا مزاج یہ ہے کہ حیثیت کے مطابق مہر رکھنا چاہیے؛ تاکہ مطالبہ کے وقت ادائیگی آسان ہو، صرف دکھلاوے کے لیے بڑھا چڑھاکر مہر مقرر نہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201729
تاریخ30-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں