بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھنے کا حکم

سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے؟  اگر آپ دارالافتاء کے لیٹر پیڈ پہ فتویٰ بھیج دیں تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی!

جواب

بیوی کے لیے  اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھنا جائز نہیں ہے۔

 

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"ولاتشترط الذكورة والحرية فيصح من المرأة والعبد بإذن المولى والزوج إن كان لها زوج، كذا في البدائع.... وإن نذرت المرأة بالاعتكاف فللزوج أن يمنعها عن ذلك".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 441):

" قال في السراج: وليس لزوجها أن يطأها إذا أذن لها؛ لأنه ملكها منافعها، فإن منعها بعد الإذن لايصح منعه، ولاينبغي لها الاعتكاف بلا إذنه، وأما الأمة فإن أذن لها كره له الرجوع؛ لأنه يخلف وعده، وجاز؛ لأنها لاتملك منافعها". فقط واللہ اعلم

نوٹ:  یہ ویب سائٹ جامعہ علوم اسلامیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے، جس پر جامعہ کے دار الافتاء کی رائے کے مطابق (باحوالہ) فتاویٰ شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ مزید اطمینان کے لیے دار الافتاء کے لیٹر پیڈ پر فتویٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو براہِ راست دار الافتاء سے رجوع کیجیے، یا درج ذیل ای میل پر اپنا سوال وضاحت کے ساتھ دوبارہ ارسال کیجیے:

ای میل ایڈریس : [email protected]

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201719
تاریخ30-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں