بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہواری کی عادت کے ایام کے مکمل ہونے پر غسل کیا مگر 30 گھنٹے بعد پھر خون آگیا

سوال

ایک خاتون کی ماہواری کا دورانیہ 7 دن ہے، اس نے سات دن کا دورانیہ مکمل ہونےکے بعد  غسل کرکے نماز شروع کردی اور روزہ رکھ لیا، مگر 30 گھنٹوں بعد اسے پھر خون آگیا ، تو یہ خون ماہواری شمار ہوگا یا نہیں؟ اور جو نماز اور روزہ غسل کے بعد ادا کیا اس کی قضا کرنی ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کا خون عادت کے ایام کے پہلے دن سے لے کر دسویں دن یا اس سے پہلے پہلے   اگر بند ہوگیا تو اس صورت میں یہ سارے ایام ماہواری کے شمار ہوں گے، اور اسے ماہواری کی عادت کی تبدیلی شمار کیا جائے گا  اور جو روزہ رکھا اس کی قضا کرنا لازم ہوگی۔

  البتہ اگر خون دسویں دن کے بعد بھی جاری رہا تو اس صورت میں مذکورہ خاتون کی عادت کے سات دن ہی ماہواری کے شمار کیے جائیں گے، اور اس کے بعد کے تمام ایام جب تک خون بند نہیں ہوجاتا استحاضہ کے شمار ہوں گے، جس کا حکم یہ ہے کہ ان ایام میں روزہ رکھنا اور تمام عبادات نماز تلاوت کلام مجید کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201716
تاریخ30-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں