بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیام اللیل کی جماعت کرنا

سوال

قیام اللیل با جماعت پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب

’’قیام اللیل‘‘  رات میں پڑھی جانے والی نفل نماز کو کہتے ہیں، اور رمضان کی تراویح ، صلاۃ الکسوف اور صلاۃ الاستسقاء کے علاوہ کسی بھی طرح کی نفل نماز کا باقاعدہ جماعت کے ساتھ اس طرح اہتمام کرنا کہ اس میں مقتدیوں  کی تعداد تین سے زائد ہو ، یہ  مکروہِ تحریمی ہے، لہذا قیام اللیل تنہا ادا کرنی چاہیے۔اور ایسی جماعت میں بھی شرکت نہ کی جائے۔

اور اگر رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام اللیل کرنا ہو تو اس کی  صورت یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد  تراویح پڑھتے ہوئے تراویح  کی کچھ رکعت چھوڑدی جائیں، اور پھر ان رکعات کو  رات میں باجماعت پڑھ لیا جائے، اس میں کسی قسم کی قباحت بھی نہیں ہوگئی اور قیام اللیل کا ثواب بھی مل جائے گا، اور اس میں  نیت بھی تراویح  کی ہی نیت کی جائے گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201664
تاریخ29-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں