بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزوں کا فدیہ کون دے سکتا ہے، اور مقدار فدیہ کیا ہے؟

سوال

جو لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے ان کو کتنا فدیہ دینا چاہیے؟

جواب

اگر کوئی شخص اتنا بوڑھا یا ایسا بیمار ہو کہ اس کے صحیح ہونے کی امید نہ ہو تو  یہ ہر روزہ کے بدلے پونے دو کلو  گندم یا اس کی قیمت( جو کہ کراچی میں آج کل تقریباً 90 روپے ہے) کسی مستحق شخص کو دے دے، پس مہینہ میں  جتنے روزے ہوں 29 یا 30 اتنے ہی فدیہ ادا کرنے ہوں گے۔ البتہ جو شخص وقتی بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو، لیکن آئندہ کسی وقت صحت اور قوت کی امید ہو،  اس کے لیے فدیہ دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ صحت حاصل ہوجانے کے بعد روزوں کی قضا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201653
تاریخ28-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں