بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرج کی رطوبت پاک ہے یا ناپاک؟

سوال

فرج کی رطوبت پاک ہے یاناپاک؟

جواب

فرج کی رطوبت کے  تین مواقع ہیں :

نمبر(۱): فرجِ خارج جس کادھوناغسل میں فرض ہے، اس کی رطوبت پاک ہے۔
نمبر(۲) :  فرج داخل: جس کادھوناغسل میں فرض نہیں، اس کی رطوبت میں اختلاف ہے اور احتیاط نجاست میں ہے۔ 
نمبر(۳): نہ فرجِ داخل نہ فرجِ خارج، بلکہ فرجِ داخل سے بھی متجاوز (یعنی اندرونی حصہ)، اس کی رطوبت نجس ہے۔

الدر المختار (1 / 313) میں ہے:
" أي برطوبة الفرج فيكون مفرعاً على قولهما بنجاستها أما عنده فهي طاهرة، كسائر رطوبات البدن".

حاشية رد المحتار على الدر المختار (1 / 313) میں ہے:
"(قوله: برطوبة الفرج ) أي الداخل بدليل قوله: أولج، وأما رطوبة الفرج الخارج فطاهر اتفاقاً ا هـ ح  وفي منهاج الإمام النووي: رطوبة الفرج ليست بنجسة في الأصح ، قال ابن حجر في شرحه: وهي ماء أبيض متردد بين المذي والعرق يخرج من باطن الفرج الذي لايجب غسله، بخلاف ما يخرج مما يجب غسله فإنه طاهر قطعاً، ومن وراء باطن الفرج؛ فإنه نجس قطعاً ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله". ( امداد الفتاوی(1/ 122)، کتاب الطہارۃ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201646
تاریخ28-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں