بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تراویح میں ثناء ترک کرنے سے نماز پر کوئی فرق پڑتا ہے؟

سوال

 تراویح کی نماز میں ثناء کا نہ پڑھنا کیسا ہے؟ اگر امام یہ نہیں پڑھتا تو کیا اس سے نماز میں کوئی فرق آتا ہے؟

جواب

نماز فرض ہو یا سنن ونوافل پہلی رکعت کے آغاز میں ثناء پڑھنا سنت ہے،  اس لیے تراویح میں بھی اسے پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، نہ پڑھنے کی صورت میں سنت کے ثواب سے محرومی ہوگی اور تراویح میں جلدی کی وجہ سے اسے چھوڑنے کا معمول بنانا درست نہیں ہے۔ تاہم اسے ترک کرنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا؛ کیوں کہ ثناء پڑھنا فرض یا واجب نہیں ہے۔

ممکن ہے کہ امام سرعت کے ساتھ ثناء پڑھ لیتے ہوں اور مقتدی نہ پڑھ سکتے ہوں، ایسی صورت میں  بلاوجہ امام کو موضعِ طعن نہ بنایا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201638
تاریخ28-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں