بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ تلاوت کا مسنون طریقہ

سوال

سجدہ تلاوت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

جواب

جب سجدہِ تلاوت کرنے لگے  تو سجدہِ تلاوت کی نیت دل میں کرے اور زبان سے بھی کہہ لینا بہتر ہے، نویت أن أسجد للّٰه تعالٰی عن تلاوة القران( اردو میں یوں کہے کہ اللّٰہ تعالی کے واسطہ سجدہِ تلاوت کرتا ہوں) اور کھڑا ہوکر ہاتھ اٹھائے بغیر اللّٰہ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین مرتبہ سبحان ربی الاعلی کہے پھر اللّٰہ اکبر کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے اور کھڑا ہو جائے، سجدہِ تلاوت میں تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کی ضرورت نہیں، اگر بیٹھ کر اللّٰہ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں چلا جائے اور سجدہ کے بعد اللّٰہ اکبر کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے اور بیٹھ جائے کھڑا نہ ہو  تب بھی درست ہے، لیکن کھڑا ہو کر سجدہ میں جانا اور پھر کھڑا ہو جانا افضل ہے۔ اگر نماز میں آیتِ  تلاوت کے بعد  فی الفور سجدہِ تلاوت کرے تو نیت ضروری نہیں ہے۔ (زبدۃ الفقہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201624
تاریخ28-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں