بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک عالم کا دوسرے عالم کو گالی دینے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ زید ایک عالم ہونے کے ساتھ مسجد کا امام ہے اور اس نے دوسرے عالم کو مادر زاد کی گندی گالی دی، ایسے میں زید کے بارے میں کیا حکم ہے؟ 

جواب

ازروئے حدیث شریف کسی بھی مسلمان کو گالی دینا گناہِ کبیرہ ہے، چاہے کوئی بھی دے اور کسی کو بھی دے، خواہ عالم ہو یا غیر عالم۔ اور عالم کا  گالی دینا گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم اور امامت کے منصب کے بھی خلاف ہے، لہٰذا کسی امام کا دوسرے عالم کو گالی دینا اور بھی زیادہ قبیح عمل ہے، اس لیے زید کو اپنے اس فعل سے توبہ بھی کرنی چاہیے اور جس عالم کو گالی دی ہے اس  سے معافی بھی مانگنی چاہیے، اور آئندہ  گالی دینے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201593
تاریخ27-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں