بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی سے عیدی مانگنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

کسی سے عیدی مانگنے کا کیا حکم ہے؟ کیا عیدی مانگ سکتے ہیں؟

جواب

عید کے دنوں میں عیدی مانگنا تو درست نہیں۔ البتہ بچوں، ما تحتوں، ملازموں وغیرہ کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنی خوشی سے ہدیہ کے طور پر عیدی دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ امام حماد رحمہ اللہ پانچ سو افراد کو ایک ایک جوڑا اور ایک ایک سو درھم عید کے دن عنایت کیا کرتے تھے، جیساکہ سیر اعلام النبلاء میں ہے:

"و قال أحمد بن عبد الله العجلي: كان أفقه أصحاب إبراهيم، و كانت ربما تعتريه موتة و هو يحدث، و بلغنا: أن حماداً كان ذا دنيا متسعة، و أنه كان يفطر في شهر رمضان خمس مائة إنسان، و أنه كان يعطيهم بعد العيد لكل واحد مائة درهم". ( سير أعلام النبلاء، حماد بن أبي سليمان مسلم الكوفي، الطبقة الثالثة، ٥/ ٢٣٤، ط: مؤسسة الرسالة)

و فيه أيضاً:

"عن الصلت بن بسطام قال: و كان يفطر كل يوم في رمضان خمسين إنساناً، فإذا كان لسلة الفطر كساهم ثوباً ثوباً". ( سير أعلام النبلاء، حماد بن أبي سليمان مسلم الكوفي، الطبقة الثالثة، ٥/ ٢٣٤، ط: مؤسسة الرسالة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201557
تاریخ27-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں