بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعزیت کے موقع پر کیا الفاظ کہے جائیں؟

سوال

کسی کے انتقال پر اُس کے گھر والوں سے تعزیت پر جاکرفاتحہ میں کیا پڑھنا چاہیے؟

جواب

تعزیت کے موقع پر مرنے والے کے لیے دعائے مغفرت اور پس ماندگان کے لیے تسلی کے الفاظ کہے جائیں، تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے، صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے: ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَه مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ‘‘ یا ’’غَفَرَ اللهُ تَعَالى لِمَيِّتِكَ وَتَجَاوَزَ عَنْهُ، وَتَغَمَّدَه بِرَحْمَتِه، وَرَزَقَكَ الصَّبْرَ عَلَى مُصِيْبَتِه، وَآجَرَكَ عَلَى مَوْتِه‘‘۔ غرض یہ کہ  ایسی بات کہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔

الفتاوى الهندية (1/ 167):
"ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه، وتغمده برحمته، ورزقك الصبر على مصيبته، وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلاً عن الحجة. وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201550
تاریخ26-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں