بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعوت کرنے والے کے مال کی تفشیش کرنا

سوال

اگر کوئی شخص کسی کی دعوت کرے یا جماعت میں  کوئی اکرام کرے تو کیا اس دعوت کے قبول کرنے والے کو اس شخص کی آمدن کی تحقیق کرنا کہ حلال ہے کہ نہیں، ضروری ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص ظاہراً شریعت کا پابند ہو، دین دار ہو اوراس کے ظاہری احوال اس کی آمدنی  کے حلال ہونے کی تصدیق کرتے ہوں تو اس کی دعوت قبول کرنا درست ہے، بلا کسی معقول شبہ کے تحقیق کی ضرورت نہیں۔البحرائق میں ہے :

"حيث يتحرى في خبر الفاسق كالإخبار بطهارة الماء ونجاسته وحل الطعام وحرمته وبخلاف الهدية والوكالة، وما لا إلزام فيه من المعاملات حيث يقبل خبره بدون التحري للزوم الضرورة ، ولا دليل سواه فوجب قبوله مطلقا". (6/166)

فتاوی شامی میں ہے :

"( ويتحرى في ) خبر ( الفاسق ) بنجاسة الماء ( و ) خبر ( المستور ثم يعمل بغالب ظنه". (6/346)(4/121امدادالفتاویٰ - فتاوی محمودیه 18/133)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008201531
تاریخ26-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں