بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو مسنون اعتکاف کا حکم

سوال

میں بیمار ہوں اور ڈاکٹر نے دو روز تک روزہ رکھنے سے منع کیا ہے اور آج اعتکاف میں بیٹھنے کا ارادہ ہے ۔ براہِ مہربانی راہ نمائی فرمادیں!

جواب

رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف مسنون ہے، اور مسنون اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، روزہ کے بغیر مسنون اعتکاف صحیح نہیں ہوتا، البتہ نفلی اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں ہے، اس لیے اگر آپ بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہیں تو آپ کا مسنون اعتکاف تو صحیح نہیں ہوگا، البتہ نفلی اعتکاف کی نیت سے اعتکاف کرلیں، اس کا اجر وثواب ملے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 442):
" ومقتضى ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون؛ لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر، ينبغي أن لايصح عنه بل يكون نفلاً فلاتحصل به إقامة سنة الكفاية". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201511
تاریخ26-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں