بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفی امام کا وتر کی نماز دو سلام کے ساتھ پڑھانے کا حکم

سوال

حنفی امام کا کسی دوسرے مذہب کے مطابق وتر کی امامت کرنا کیسا ہے؟  کیا ایسا کرنے سے وتر ہو تے ہیں یہ نہیں؟

جواب

اگر حنفی امام وترپڑھاتے ہوئے تین رکعت وتر ایک سلام کے بجائے دو سلام کے ساتھ پڑھائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ ایسا کرنے سے نہ تو اس حنفی امام کے وتر ادا ہوں گے اور نہ ہی اس کے مقتدیوں کی نماز وتر ادا ہوگی۔ حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے کے لیے حنفی طریقے کے  مطابق ہی (ایک ہی سلام کے ساتھ تین رکعت ) وتر کی نماز پڑھنی لازمی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201508
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں