بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پہلی رکعت میں بیٹھ جانے کی صورت میں کیا سجدہ سہو واجب ہوگا؟

سوال

ہماری مسجد کے امام صاحب دو رکعات تراویح پڑھنے میں پہلی رکعت  پر بیٹھ گئے،  پیچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا پھر وہ کھڑے ہوگئے،  پھر انہوں نے سجدہ سہو نہیں کیا اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے التحیات نہیں پڑھی تو کیا اس صورت میں سہو سجدہ کرنا چاہیے تھا کہ نہیں؟ جب کہ پیچھے سے دو تین مقتدیوں نے آواز دی۔  شریعت کی روشنی سے راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ امام صاحب پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد ایک رکن کی ادائیگی ( تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار اگر بیٹھے رہے، اور مقتدیوں کی جانب سے تنبیہ کرنے کے بعد کھڑے ہوئے تو ایسی صورت میں ان پر سجدہ سہو کرنا واجب تھا، اگرچہ انہوں نے التحیات نہ پڑھی ہو، سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز کے وقت کے اندر اندر مذکورہ تراویح کی رکعات کا اعادہ واجب تھا، تاہم وقت نکل جانے کے بعد اعادہ ساقط ہو جائے گا، استغفار لازم ہوگا۔

اور اگر مذکورہ امام صاحب تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار نہ بیٹھے ہوں تو سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201505
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں