بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا روزے کی حالت میں پانی میں ڈبکی لگا سکتے ہیں؟

سوال

کیا روزہ کی حالت میں پانی میں ڈبکی لگائی جا سکتی ہے کہ جس میں سر پورا پانی میں ڈوب جائے؟

جواب

روزے کی حالت میں سوئمنگ پول یا نہر میں غوطہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پانی   منہ یا ناک کے راستے سے  حلق سے نیچے نہ اترے ، ورنہ  روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔ اور اگر غوطہ لگانے کے بعد اپنے ارادہ سے پانی حلق سے پیٹ میں اتار لیا تو روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔ لہٰذا جو شخص تیراکی اچھی طرح نہ جانتا ہو اسے روزے کی حالت میں احتیاط کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201503
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں