بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں بیٹھی بیوی سے شوہر کا ہم بستری کرنا

سوال

اگر بیوی اعتکا ف میں بیٹھ جائے اور شوہر کو مباشرت کا تقاضا ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

اعتکاف کے دوران بیوی سے صحبت جائز نہیں ہے، بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کی اجازت سے اعتکاف میں بیٹھے، اور اجازت دینے کے بعد شوہر کے لیے پھر اسے اعتکاف سے روکنا یا اعتکاف کے دوران ازدواجی تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ہوگا، اگر شوہر ہم بستری کے لیے بلائے تو عورت اعتکاف کا عذر کرکے منع کردے، تاہم اس کے باجود اگر شوہر نے ہم بستری کرلی تو عورت کا مسنون اعتکاف فاسد ہوجائے گا، ایک دن رات کے اعتکاف کی روزہ کے ساتھ قضا کرنا لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 450):
" على أنه يحتمل أن تكون الزوجة معتكفةً في مسجد بيتها فيأتيها فيه زوجها فيبطل اعتكافها اهـ".

الفتاوى الهندية (1/ 211):
"لاتشترط الذكورة والحرية فيصح من المرأة والعبد بإذن المولى والزوج إن كان لها زوج، كذا في البدائع. فإن أذن لها الزوج بالاعتكاف لم يكن له أن يمنعها بعد ذلك، وإن منعها لايصح منعه، والمولى إذا منع المملوك بعد الإذن صح منعه ويكون مسيئاً في ذلك". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201496
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں