بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں تعلیم دینے کا حکم

سوال

اعتکاف میں تعلیم دینا کیسا ہے؟

جواب

معتکف کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینا یا بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے، اور بغیر اجرت کے اللہ کی رضا کے لیے تعلیم دینا جائز اور ثواب کا کام ہے، البتہ اگر معلم اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اس کا گزارا صرف تعلیم پر ہی ہوتا ہو اس کے علاوہ اس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے یا وہ مدرسہ کا تنخواہ دار ملازم ہے اور اسے وہاں سے چھٹی نہیں مل رہی یا کوئی اور مجبوری ہے ایسے شخص کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینے کی گنجائش ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 321):
" ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008201495
تاریخ25-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں